ایک مجتہد کا خواب، ایک عالم کی آخری منزل اور زیارِت عاشورہ کا کمال

تعارف

،کیسا لگے اگر کسی خواب میں آپ کو پتا چلے کہ ایک جلیل القدر عالم کو جنت کے اعلٰی مقام پر علم یا درس و تدریس کی بنا پر نہیں
بلکہ صرف زیارت عاشورہ کی مستقل تالوت کے سبب فائز کیا گیا؟

یہ واقعہ اسی خواب اور کرامت کی حقیقت کو بیان کرتا ہے — جو زیارت عاشورہ کی طاقت کو دنیا و آخرت میں ظاہر کرتا ہے۔

کرامت کی تفصیل

فقیہ زاہد اور عادل، شیخ مشکور عربی جو نجف اشرف کے جلیل القدر علماء اور ائمہ جماعت میں سے تھے
انہوں نے ایک عظیم الشان روحانی خواب کا ذکر کیا۔

“صفر 1336 ہجری کی رات میں نے خواب میں فرشت موت حضرت عزرائیل )ع( کو دیکھا۔ 26”

:سالم کے بعد میں نے ان سے سوال کیا
“آپ کہاں سے تشریف ال رہے ہیں؟” < :حضرت عزرائیل )ع( نے فرمایا "میں شیراز سے آ رہا ہوں، جہاں میں نے مرزا ابراہیم محالتی کی روح قبض کی ہے۔" :میں نے پوچھا "برزخ میں ُان کی روح کس حال میں ہے؟" :فرمایا ،بہترین حالت میں ہے" < ،جنت کے باغات میں ایک اعلٰی مقام پر "اور ایک ہزار فرشتے ان کے ماتحت ہیں جو ان کے حکم کی تعمیل کرتے ہیں۔ :میں نے عرض کی "کیا یہ مقام انہوں نے اپنے علمی مرتبہ یا شاگردوں کی تعلیم کی وجہ سے پایا؟" :فرمایا "نہیں۔" :پوچھا کیا ان کی نماِز جماعت یا شرعی احکام کی تبلیغ کی بدولت؟" :فرمایا "نہیں۔" :پھر میں نے عرض کی "پھر کس وجہ سے؟" :حضرت عزرائیل )ع( نے فرمایا "زیارت عاشورہ کی تالوت کے سبب۔" مرزا محالتی مرحوم نے اپنی زندگی کے آخری 30 سال زیارت عاشورہ کو کبھی ترک نہ کیا۔ اور اگر کسی بیماری یا مجبوری کے باعث فورًا نہ پڑھ سکتے، تو بعد میں ضرور قضا پڑھتے۔ :خواب کی تصدیق اگلے دن شیخ مشکور، آیت اللہ مرزا محمد تقی شیرازی کے گھر تشریف لے گئے اور خواب سنایا۔ مرزا صاحب گریہ کرنے لگے۔ "پوچھا گیا: "آپ کیوں رو رہے ہیں؟ :فرمایا ...مرزا محالتی واقعی اس دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں" < "وہ فقہ کے ستون تھے۔ "لوگوں نے کہا: "یہ تو صرف خواب ہے۔ :مرزا صاحب نے جواب دیا ،اگرچہ یہ خواب ہے، مگر یہ شیخ مشکور کا خواب ہے" < "کسی عام آدمی کا نہیں۔ اگلے ہی دن، شیراز سے مرزا محالتی کے انتقال کی خبر نجف پہنچی جس نے خواب کی تصدیق اور کرامت کو سچ کر دکھایا۔

روحانی پیغام

اگرچہ ُان کے پاس علم، شاگرد، امامت اور شریعت کی خدمات سب کچھ تھا
مگر ُانہیں جو مقام عطا ہوا، وہ صرف زیارت عاشورہ کے عمل کی بدولت تھا۔

:یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ
اخالص، تسلسل اور امام حسیؑن سے محبت کے ساتھ کیا گیا عمل، دنیا و آخرت کی بلندی کا راستہ ہے۔

دعوِت عمل

کیا آپ بھی اللہ سے کوئی خاص دعا مانگنا چاہتے ہیں؟
کیا آپ اوالد، رزق یا سکون جیسی کسی نعمت کے منتظر ہیں؟

تو آج ہی سے زیارِت عاشورہ کا 40 روزہ چیلنج شروع کیجیے۔
روزانہ 100 لعنت، 100 سالم اور دعائے علقمہ کو مکمل اخالص سے ادا کریں۔

اپنی حاجت امام حسیؑن کے وسیلے سے اللہ کے حضور پیش کیجیے۔ ✨

اگر آپ نے زیارِت عاشورہ کے ذریعے کبھی کوئی حاجت پوری ہوتے دیکھی ہے
— تو براِہ کرم ہمارے کمنٹ سیکشن میں ضرور شیئر کریں
تاکہ دوسروں کو بھی حوصلہ، امید اور روحانی طاقت ملے۔

👇 قسط 7 کا لنک

ایک مسافر کی حاجت، زیارت عاشورہ کی کرامت، اور مشہد کا نصیب

➡️ قسط نمبر 9 جلد آرہی ہے، انشاء اللہ..